ئی دہلی،یکم دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) گزشتہ پانچ دنوں سے چل رہی کسانوں کی بڑی تحریک کا اثر ملک کے ہر علاقہ پر نظر آنے لگا ہے اور دہلی کی سرحدوں سے ہزاروں کی تعداد میں کسان اپنے مطالبات پورے کرانے کے لئے دہلی پہنچے پر بضد ہیں۔ مودی حکومت نے منگل کے روز کسانوں کو مذاکرات کے لئے مدعو کیا ہے۔
اس سے قبل ہفتہ کے روز بھی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے یہ شرط عائد کر دی تھی کہ کسانوں کو براڑی کے نرنکاری میدان میں جانا ہوگا، اس کے بعد ہی ان سے کوئی بات ہوگی۔ کسانوں نے امت شاہ کی اس شرط کو نامنظور کر تے ہوئے سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔
حزب اختلاف کی جماعتیں کسانوں کے حق میں آواز اٹھا رہی ہیں اور مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ اسی ضمن میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی بھی حکومت پر حملہ آور ہیں۔ انہوں نے منگل کے روز ٹوئٹ کیا اور کہا کہ حکومت کو اپنی تکبر کی کرسی سے نیچے اتر کر سوچنا چاہیے اور کسان کو اس کا حق دینا چاہیے۔
اس سے قبل راہل گاندھی نے اپنی اسپیک اپ انڈیا (Speak Up India) ویڈیو سیریز کے تحت کسانوں کی تحریک بات کی تھی اور سوال کیا تھا کہ ’’ملک کا کسان سیاہ زرعی قوانین کے خلاف ٹھنڈ میں، اپنے گھر کھیت چھوڑ کر دہلی تک آ پہنچا ہے۔ سچائی اور جھوٹ کی لڑائی میں آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، انداتا کے یا وزیر اعظم کے سرمایہ دار دوستوں کے!‘‘
بشکریہ: قومی آواز